Thursday, April 30, 2009

Aik Kamra e Imtihan - by Amjad Islam Amjad


بےنگِاہ آنکھوں سے دیکھتے ہیں پَرچے کو
بے خیال ہاتھوں سے
اَن بُنے سے لفظوں پَر اُنگلیاں گھُماتے ہیں
یا سوالنامے کو دیکھتے ہی جاتےہیں
ہر طرف کَن اَنکھیوں سے بچ بَچا کے تَکتے ہیں
دُوسروں کے پَرچوں کو رَہنما سمجھتے ہیں
شاید اِس طرح کوئی راستہ ہی مِل جائے
بےنِشاں خوابوں کا کچھ پَتا ہی مِل جائے

مجُھ کو دیکھتے ہیں تو
یُوں جواب کاپی پَر ہاشیے لگاتے ہیں
دائرے بناتے ہیں
جیسے اِنکو پَرچے کے سب جواب آتے ہیں
اِس طرح کے مَنظر میں
اِمتہان گاھوں میں دیکھتا ہی رہتا تھا
نقَل کرنے والوں کے
نِت نئے طریقوں سے
آپ لطُف لیتا تھا! دوستوں سے کہتا تھا

کِس طَرف سے جانے یہ!
آج دِل کے آنگن میں ایک سوال آیا ہے
سینکڑوں سوالوں سا ایک سوال لایا ہے
وقت کِی عدالت میں
زندگی کِی صُورت میں
یہ جو تیرے ہاتھوں میں ایک سوالنامہ ہے
کِس نے یہ بنایا ہے
کِس لیے بنایا ہے
کچُھ سمجھ میں آیا ہے

زِندگی کے پَرچے کے
سب سوال لازِم ہیں..سب سوال مشکِل ہیں
بے نِگاہ آنکھوں سے دیکھتا ھُوں پَرچے کو
بے خیال ہاتھوں سے
اَن بُنے سے لفظوں پَر اُنگلیاں گُھماتا ھُوں
ہاشِیے لگاتا ھُوں
دائرے بناتا ھُوں
یا سوالنامے کو دیکھتا ہی جاتا ھُوں

1 comment:

Naeema Akram-Jehanzeb said...

kya kehne! Buhat khoob!

But tell me something how have you incorporated this urdu font?